۲) مبادیات قانون مفرد اعضاء

 حقیقت قانون مفرد اعضاء کے مطابق مبادیات

Basics of Haqeeqat Qanoon Mufrad Aza

طبی طور پر ماہر ہونے کے لیئے اس قدر ضروری ہے کہ وہ فاضل طب و جراحت اور مستند ہونے کے علاوہ ذہین و فہم رسا کا مالک ہو، مقلد محض اور ضدی نہ ہو بلکہ مسائل اجماعیہ میں بھی تقلید کے علاوہ تحقیق پر عامل ہو، ہر چیز کیا ہے؟ کیوں ؟ اور کیسے ؟ کی نگاہ سے پرکھے۔ گویا محقق حقیقی ہو کیونکہ علم طب قیاسی و ظنی علم ہے اس لیئے جزئیات سے کلیات اور کلیات سے جزئیات کا استنباط کرنا پڑتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اناٹومی اور فزیالوجی پر پر پوری نظر ہواور مطالعہ کثیرہ کی عادت لازم رہے، جس مسئلہ میں یقین ہوجائے کہ یہ معیار پر پورا نہیں اترتا اس پر قلمزنی کرے اور جو مسئلہ باہمی مشاورت سے بھی حل نہ ہو اس کو بھی قلمزن کردے تاکہ دوسرے محققین اس پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں اور احقاق حق ہوسکے۔ 

فطرت Nature

فطرت وہ طاقت ہے جس پر زندگی و کائنات اور تمام عالم رواں دواں ہے یہ بھی اصول و قاعدہ اور ترتیب کے ماتحت ہےاس لیئے قانون کی حیثیت رکھتی ہے اسے قانون فطرت کہہ دیا جاتا ہے لیکن فطرت خود طاقت قدرت کے تحت قانون ہے۔ قرآن کریم میں فطرت کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا ۔ ’’ اللہ کی یہ فطرت ہے کہ جس کے قانون پر انسان پیدا کیا گیا ہے‘‘۔ اور فطرت کے معنوں میں سنت کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے جیسے  وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلا ’’ ہر گز اللہ کے قانون میں تبدیلی نہیں پائو گے‘‘۔

قانون Law

یہ اپنے اندر بہت بڑی طاقت رکھتا ہے یعنی ایسے قاعدے اور طریق جو کسی اصول و ترتیب اور صحیح بنیادوں پر قائم ہوں۔ یا یوں سمجھ لیں کہ روزانہ زندگی میں مسلسل تجربات و مشاہدات کسی عمل یا شے کے نتائج ایک ہی صورت میں پیدا ہوں تو بس اس کو قانون کہتے ہیں۔ جیسے آگ جلاتی ہے اور پانی کو گرم کرتی ہے، اسی طرح پانی سردی پیدا کرتا ہے اور آگ کو بجھا دیتا ہے۔ جب بھی ایسے اعمال کیئے جائیں گے ایسا ہی ہوگا۔
یاد رکھیں مرض جس طرح بھی پیدا ہو بہرحال وہ کسی نہ کسی قانون صحت کی خلاف ورزی ہوگا۔ یاد رکھیں برائی کبھی قانون کے ماتحت نہیں ہوتی بلکہ برائی وہ شے یا عمل ہے جو نیکی اور بھلائی کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لیئے مرض بھی کسی قانون سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب صحت کے قانون کی خلاف ورزی کی جائے تو مرض پیدا ہوتا ہے۔ 

کیفیات

قدرت کی وہ قوتیں جو مادے پر جسمی اور فعلی طور پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ کائنات میں رونما ہوئے والا ہر فعل ان ہی کیفیات سے وقوع پزیر ہوتا ہے۔ ان کے ہی باہمی فعل و انفعال، اجز متاثر، کسر انکسار سے ارکان بنے ہیں۔ ان کے بغیر وجود اشیاء ممکن نہیں اور نہ ہی فعل اشیاء۔ ان کیفیات میں سے اگر ایک بھی نہ ہوتو وجود زندگی کا خاتمہ ہوجائے یا نامکمل رہ جائے۔ مثلاً اگر گرمی نہ ہوتو ہر چیز سرد ہوکر جم جائے۔ اور اگر گرمی ہی گرمی ہوسردی نہ ہوتو ہر شے گرم ہوکر جل جائے اور فنا ہوجائے۔ اگر تری نہ ہو تو ہر چیز خشک ہوکر اکڑ جائے اور اگر تری ہی تری ہو خشکی نہ ہوتو ہر چیز بہہ جائے۔ اسی طرح اگر اندھیرا ہی رہے اور روشنی نہ ہو تو نباتات، جمادات اور حیوانات سب کا وجود خطرہ میں ہے کیونکہ روشنی کا غذاء بنانے میں بھی بہت اہم حصہ ہے، نباتات دن کی روشنی میں فوٹو سینتھیسس کے عمل سے اپنی غذا بناتے ہیں اور آکسیجن کا اخراج کرتے ہیں۔ یہ نباتات جانوروں اور انسانوں کی غذاء بنتے ہیں اور آکسیجن زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسی طرح روشنی کے دیگر فوائد بھی ہیں جنھیں اختصار کی وجہ سے درج نہیں کیا جارہا۔ اسی طرح روشنی تو رہے لیکن اندھریرا نہ ہو تب بھی وجود انسانی زندگی مکمل خطرہ میں ہے کہ اندھیرہ باعث سکون ہے۔ روشنی اور اندھیرہ کے اثرات دیگر کیفیات کی طرح نباتات (جڑی بوٹیوں)، جمادات (حجریات) اور حیوانات وغیرہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ فصل کی کاشت سے لیکر علاج معالجہ تک ان تمام کیفیات کا ایک خاص تناست کے ساتھ قائم رہنے سے ہی وجود زندگی ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو یا کوئی ایک اپنی شدت میں ہوتو یقیناً وجود زندگی فنا ہونی شروع ہوجائے گی۔

ان کیفیات نے ہی مادی حیات کو ممکن بنایا ہے، ہر چیز میں یہ کیفیات سموئے ہوئے ہے۔ ان کیفیات کا اظہار ان کے ظاہری اور باطنی خواص سے ہوتا ہے۔ تمام کیفیات فاعلہ اور مفعولہ ہوتی ہیں (یعنی ایک کیفیت کہیں فاعل ہے تو دوسرے مقام پر مفعول بھی ہوگی۔) 

نوٹ: فاعل اور مفعول: مادے میں موجود غیر متحرک (ساکن) قویٰ کو مفعول اور اس پر موجود کثیف پردوں کو ہٹانے اور بستہ قوت کے جمود کو توڑنے والی قویٰ کو فاعل کہیں گے۔)

کیفیت بسیط ہوتی ہے (یعنی ایسی چیز جو باوجود تقسیم ہونے کے اپنی ماہیت برقرار رکھے، چاہے اسے کتنا ہی تقسیم کیا گیا ہو ان کے خواص قائم رہیں گے۔) یہ ناممکن ہے کہ وہ مختلف صورتوں اور طبیعتوں کے اجسام میں تقسیم ہوجائیں اور اگر ہوجائیں تو بسیط نہیں، مثلاً پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن کے امتزاج سے بنتا ہے اور پانی سے ان کو الگ کردینےپر پانی نہیں رہتا لہٰذا پانی بسیط نہیں۔

بسیط صرف کیفیات ہی ہوسکتی ہیں ان کو جتنا تقسیم کریں یہ اپنی خصوصیت اور ماہیت برقرار رکھتی ہیں۔

جب دو متضاد کیفیات آپس میں ملتی ہیں تو ایک کیمیائی تغیر پیدا ہوتا ہے جس سے مختلف اوصاف کی حامل ایک نئی شے وجود میں آتی ہے یہی کیمیاوی عمل درحقیقت عمل حیات ہے۔ وجود کائنات اور انسان کے لیئے ان کا اعتدال سے پایا جانا ضروری ہے۔

کائنات میں ارکان و کیفیات کے امتزاج سے وہ ماحول ترتیب پاتا ہے جو بقائے کائنات کے لیئے لازمی ہے اور انسانی بدن کے اندر بھی انہی ارکان و کیفیات کے اختلاف سے وہ مزاج بنتا ہے جو بقائے حیات کے لیئے لازمی ہے۔ جس طرح کائنات میں کیفیات و ارکان کی ناموزونیت اس کے ماحول کو بگاڑ دیتی ہے بالکل اسی طرح بدن انسانی میں مزاج کا بگاڑ فساد حیات کا باعث بنتا ہے۔ جب تک یہ مزاج ترکیب برقرار ہے تو عضو کے افعال میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا لیکن جب اس کا طبعی ترکیب مزاج بگڑ جاتا ہے تو لازماً اس عضو کے افعال میں بھی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔

کائنات میں کیفیات کی تعداد 6 ہے۔ جن کے نام یہ ہیں۔   

حرارت ، روشنی ، تری ، سردی ، خشکی ، اندھیرا (سیاہی)

ارکان

مادہ اولیٰ کا جوہر کیفیت کی صورت میں اس کے اندر مستور ہے یہ جب بستہ شکل اختیار کرلیتا ہے تو رکن بنتا ہے اور اگر اسے صورت نوعیہ مل جائے تو یہ جسم بن جاتا ہے۔

کیفیات بستہ شکل اختیار کرکے ارکان بنتے ہیں اور اگر ان کو صورت نوعیہ مل جائے تو یہ جسم بن جاتے ہیں جس کو عنصر کہتے ہیں۔

عنصر

جب ارکان مل کر ایک خاص جسمیہ صورت اختیار کرلیتے ہیں تو ایک جسم تشکیل پاتا ہے جس کو عنصر کہیے ہیں (یعنی ہر عنصر اپنے ارکان سے ملکر بنتا ہے تاہم اس کی ساخت اور ترکیب کے تناسب میں کسی خاص رکن یا کیفیت کا غلبہ ہوتا ہے جس کے سبب ہر عنصر کی صرت نوعیہ اور خواص دوسرے عنصر سے مختلف ہوتے ہیں)۔ یہ عناصر زمین و آسمان کے درمیان ایک فاعلی قوت کا درجہ رکھتے ہیں اور افلاک سے نکلنے والی شعاعوں میں موجود توانائی کی تاثیر قبول کرلیتے ہیں۔ عناصر کو کائنات کے ابتدائی جسم اور مادے کے نمونہ کی حیثیت حاصل ہے لیکن یہ ارکان کی طرح اجزاء اولیہ ہرگز نہیں ہیں۔

عناصر بسیط ہرگز نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ سالمات اور ایٹم میں تقسیم ہوجاتے ہیں اور ایٹم بھی مزید برقی شراروں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔

عناصر کے مجتمع ہونے سے دو طرح کے اجسام بنتے ہیں ایک وہ جو عناصر کی کسی خاص ترکیب عملی سے وجود میں آتے ہیں اور جان دار بن جاتے ہیں، ان کو نباتات و حیوانات کہتے ہیں۔ دوسرے وہ جو عناصر کی کسی دوسری ترکیب سے تشکیل پاتے ہیں اور بے جان ہوتے ہیں ان کو جمادات کہتے ہیں۔ یہ جمادات نباتات کے لیئے غذاء ہیں اور نباتات حیوانات کے لیئےغذاء ہیں۔

خاص نوٹ: ایک ہی طرح کے عناصر سے مختلف ترکیب پاکر بننے والے مختلف اجسام جان دار اور بے جان دونوں بنتے ہیں جس کی حقیقی حکمت صرف قدرت کاملہ ہی کو معلوم ہے۔

خلط

دوکیفیات اپنی کمی بیشی سے مل کر ایک خلط (صورت نوعیہ ) بناتے ہیں۔ اس کے لغوی معٰنی ملی ہوئی چیز کے ہیں۔ ماہیت کے لحاظ سے یہ ایک تر و سیال مادہ ہے جس میں مجسم ہونے کی خاصیت ہوتی ہے (یہ اپنے مزاج کے مطابق کے اعضاء کا حصہ بن جاتی ہے۔)

غذا کھانے کے بعد ہضم کے الگ الگ مراحل سے گذر کر اپنی ٹھوس شکل چھوڑ کر ایک نئی شکل اختیار کرتی جاتی ہے۔ آش جو کی مانند سفید اور گاڑھا مواد کیلوس کہلاتا ہے جوکہ عروق ماساریقا کے ذریعے جذب ہوکر جگر میں جاتا ہے۔ یہاں طبخ پاتا ہے تو کیمیاوی طور پر مختلف حصوں (غذا میں موجود جواہر کے مطابق اخلاط) میں تقسیم ہوجاتا ہے یہاں اسے کیموس کہا جاتا ہے۔ جو کہ الگ الگ اخلاط (اعضاء کے غذائی مادوں) پر مشتمل ہے۔ اخلاط کا جگر میں بننے سے مراد ان کا کیمیائی وجود اور شکل اختیار کرنا ہے ورنہ پیدائش تو معدہ و آنتوں میں ہی شروع ہوجاتی ہے۔

غذاء میں جن کیفیات کی کثرت ہوگی انہی کی متعلقہ خلط زیادہ بنے گی۔ خون ان اخلاط کا مجوعہ ہے جو اپنے اندرونی سفر کے دوران متعلقہ اعضا کے مطابق ان کی غذا (خلط) انہیں پہنچادیتا ہے۔ یہ طبعی عمل ہے کہ تمام غذائی یا دوائی اجزاء اخلاط کی شکل میں خون کے ذریعہ اپنے متعلقہ اعضاء تک پہنچیں۔ اگر خون میں براہ راست نفوذ کرکے اس کی کیمیائی حالت تبدیل کردینے سے ہر دم نقصان کا احتمال رہتا ہے اور اس سے کبھی بھی دائمی فوائد حاصل نہیں ہوتے۔

اخلاط کی تین جوڑوں میں 6 اقسام ہیں۔

بلغم کی دو اقسام ہیں: 1) تری زیادہ روشنی کم ذائقہ میٹھا برائے اعصاب خبر رساں کے لیئے اس سے جسم میں تری آتی ہے۔ 2) سردی زیادہ اور سیاہی کم ذائقہ پھیکا برائے اعصاب حکم رساں، اس سے جسم میں سردی کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔

سودا کی دو اقسام ہیں: 1) سیاہی زیادہ سردی کم ذائقہ ترش یا کھٹا برائے ارادی عضلات کے لیئے، اس سے جسم میں ضروری سیاہی پوری ہوتی ہے۔ 2) خشکی زیادہ اور گرمی کم ذائقہ کڑوا برائے غیر ارادی عضلات، اس سے جسم کی خشکی قائم رکھی جاتی ہے۔

صفراء کی دو اقسام ہیں: 1) گرمی زیادہ اور خشکی کم ذائقہ چرپرا برائے غدد جاذبہ، اس سے جسم میں حرارت کی طلب پوری کی جاتی ہے۔ 2) روشنی زیادہ تری کم ذائقہ نمکین برائے غدد ناقلہ، اس سے جسم کی صاف صفائی کے لیئے روشنی کی صفات کی حامل ضرورت پوری کی جاتی ہے۔

مزاج

دو کیفیات کے ملاپ سے جو مادہ یا خلط تیار ہوتی ہے اسی کا مزاج بنتا ہے۔ کسی بھی چیز کا مزاج تب ہی قرار پائے گا جب دو کیفیات اکٹھی ہوئی ہوں کہ مزاج مفرد نہیں ہوسکتا۔ 

6 کیفیات سے 3 ارکان، 6 اخلاط اور 6 ہی مزاج بنتے ہیں۔

ارواح

حقیقت قانون مفرد اعضاء میں ارواح کی جگہ نفس کہا جائے گا کیونکہ ہر عضو میں اسکا نفس ہوتا ہے اور یہ بھی خون میں دوڑتا ہے جبکہ روح اللہ کے حکم سے ہے اور اس کو اپنے مقام پر رہنے دینا چاہیئے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حقیقت قانون مفرد اعضاء ( Haqeeqat Single Organ Pathy)